مغربی ممالک نے روس اور چین پر شام کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد کوکلِک ویٹو کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔
روس اور چین نے منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عوامی مظاہروں کو طاقت سے کچلنے پر شام کی حکومت کے خلاف پیش کی جانے والی قرار داد کو ویٹو کر دیا تھا۔
یہ ان لوگوں کی گھٹیا حرکت ہے جو شام کی عوام کے ساتھ یکجہتی کے بجائے شام کی حکومت کو اسلحہ بیچنے کو ترجیح دیتے ہیں
سوزن رائس، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر
فرانس کے وزیر خارجہ ایلین ژوپ نے اس کو ’شام کی عوام کے لیے ایک مایوسکن دن‘ قرارد دیا جبکہ جرمنی کے وزیر خارجہ گیدو ویسٹرویلے نے اسے ’انتہائی افسوناک‘ کہا ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ کے مطابق’سلامتی کونسل دنیا میں امں و سلامتی قائم کرنے کی اپنی ذمہ داری سے قاصر رہی ہے۔ شام کی حکومت پر دباؤ کے لیے جرمنی بین الاقوامی سطح پر اور خاص طور پر یورپ میں اس کے لیے مطالبات کرتا رہے گا۔ ‘
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس
امریکہ کی اقوام متحدہ میں سفیر سوزن رائس نے کہا کہ واشنگٹن کو اس ویٹو پر بہت غصہ ہے۔ سفیر کا کہنا تھا کہ یہ ’ان لوگوں کی گھٹیا حرکت ہے جو شام کی عوام کے ساتھ یکجہتی کے بجائے شام کی حکومت کو اسلحہ بیچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘
امریکی سفیر نے اجلاس سے اس وقت احتجاجاً واک آؤٹ کیا تھا جب شام کے اقوام متحدہ میں نمائندے نے کہا تھا کہ امریکہ ویٹو کا اپنا حق اسرائیل کو بچانے کے لیے استعمال کرتا رہتا ہے حالانکہ اسرائیل ’نسل کشی میں ملوث ہے۔‘
ادھر ماسکو میں شام کے سفیر نے روس اور چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا ہے کہ ’شام کے لوگ روس اور چین کے مشکور ہیں۔‘
سلامتی کونسل کی قرارداد:
یہ قرار داد یورپی ممالک نے مرتب کی تھی اور اس کو ویٹو سے بچانے کے لیے کافی نرم کیا گیا۔ اس قرارداد میں پابندیاں لگانے کے بجائے مخصوص اقدامات تجویز کیے گئے تھے۔
قبل ازیں امریکہ نے کہا تھا کہ سلامتی کونسل کو شام کے لیے واضح پیغام بھیجنا ہوگا کہ تشدد ختم ہونا چاہیے۔
بی بی سی نامہ نگار لارا ٹریولیان کا کہنا ہے کہ قرارداد کو ویٹو کیے جانے سے شام کے معاملے میں امریکی اور یورپی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔
روس کا کہنا تھا کہ اس قرار داد کے مسودے میں بیرونی فوجی مداخلت اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کو یقینی بنانے کی بابت کچھ نہیں کہا گیا۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر نے کہا تھا کہ ’یہ ویٹو ہمیں نہیں روک سکتا اور یہ شام کے حکمرانوں کو کھلی چھٹی نہیں دیتا۔‘
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرار داد کے حق میں نو ووٹ آئے جبکہ چار ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
اُدھر چین کے اقوامِ متحدہ میں سفیر لی بوڈونگ کا کہنا ہے ’بیجنگ سمجھتا ہے کہ موجودہ حالات میں پابندیاں یا پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں شام کے مسئلہ کو حل کرنے میں مدد نہیں کریں گی بلکہ یہ حالات کو مزید سنگین کردیں گی۔‘