امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کی معیشت کی شرح ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے ہر مہینے اضافی چالیس ارب ڈالر کے قرض پر دیے گئے بانڈ خریدے گا۔
اس اعلان سے امریکی اور ایشیائی بازاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اسی بارے میںامریکی معیشت میں بہتری کے آثارامریکہ: قرضوں کا بحران، معاہدے پر اتفاقامریکہ:’ٹیکس کی شرح میں اضافے کا منصوبہ‘متعلقہ عنواناتدنیا, وزارتِ خزانہ, امریکہواضح رہے کہ امریکہ میں اس برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں ملک کی معیشت ایک بڑا انتخابی مسئلہ ہو گا۔
امریکہ میں کئی برسوں سے سود کی شرح تقریباً نہ ہونے کے برابر رہی ہے اور جمعرات کو مرکزی بینک نے اس کو 25۔0 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکہ کی مرکزی بینک نے ملک کی معیشت میں بہتری لانے کے لیے معیشت میں اضافی سرمایہ کاری کا طریقہ اختیار کیا ہے جس کے تحت اس نے دو مرحلوں میں دو اعشاریہ تین کھرب ڈالر کے بانڈ خریدنے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی مرکزی بینک نے جو قدم اٹھایا ہے وہ تب تک عمل میں لایا جا سکتا ہے جب تک ملک میں ملازمت، قرضوں اور کساد بازاری کا مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے۔
حالانکہ کیپیٹل اکنامکس نامی ادارے کے ممبر اور اقتصادی ماہر پال ایشورتھ کا کہنا ہے’مجھے اس بات پر شک ہے کہ یہ نیا قدم امریکی معیشت کو صحیح راہ پر لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ صرف وقت کی بات ہے کہ کب یہ قیاس آرائیاں شروع ہو جائیں کہ فیڈرل ریزرو ان بانڈز کو خریدنے کی رقم کب بڑھا کر چالیس ارب ڈالر سے زیادہ کرتا ہے۔‘
امریکہ میں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن جماعت کے رہنما حکومت کی قرض لینے کی حد میں اضافے کے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ میں بےروزگاری کی شرح 8.1 فیصد ہے۔ سنہ 2009 میں اکتوبر کے مہینے میں یہ شرح دس فیصد پہنچ گئی تھی۔