Tuesday, October 18, 2011

اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کی رہائی کا عمل شروع

اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کو ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے منگل کو رہا کیا جارہا ہے۔

سارجنٹ گیلاد شالت کو پانچ سال پہلے سنہ دو ہزار چھ میں حماس کے جنگجوؤں نے سرحدی علاقے پر ایک جھڑپ کے دوران پکڑ لیا تھا۔

اسی بارے میںاسرائیل: فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاریگیلاد شالت: معاہدے پر جشن’گیلاد شالت کے عوض ایک ہزار فلسطینی‘پیر کو اسرائیل کی سپریم کورٹ نے فلسطینی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے جانے والوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے اس عمل کو اڑتالیس گھنٹے تک معطل کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا۔

گیلاد شالت کے بدلے چار سو سینتالیس فلسطینی قیدیوں کو پہلے مرحلے میں منگل کو رہا کیا جائے گا اور اس عمل کا آغاز ہوچکا ہے۔ باقی پانچ سو پچاس فلسطینی قیدیوں کو اگلے ماہ رہائی ملے گی۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’میں ایسے افراد کو رہا کرنے کے دکھ کو سمجھ سکتا ہوں جو آپ کے پیاروں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث تھے اور انہیں پوری سزا نہیں دی جاسکی۔‘

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، کئی سو فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے گاڑیوں کے ذریعے غزہ اور غربِ اردن میں مطلوبہ مقامات پر لے جایا جارہا ہے جہاں سے انہیں فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے گا۔

"میں ایسے افراد کو رہا کرنے کے دکھ کو سمجھ سکتا ہوں جو آپ کے پیاروں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث تھے اور انہیں پوری سزا نہیں دی جاسکی"

بن یامین نتن یاہو
خبررساں ادارے اے پی کے مطابق، فلسطینی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت ایک ہزار ستائیس فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کی رہائی عمل میں آرہی ہے۔ یہ معاہدہ ایک مصالحت کار کے ذریعے کیا گیا تھا کیونکہ اسرائیل اور حماس براہِ راست مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔

گزشتہ منگل کواسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ فلسطینی شدت پسند گروہ حماس اور اسرائیل کے درمیان مغوی اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کی رہائی کا معاہدہ ہو گیا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق بظاہر یہ معاہدہ کرانے میں مصر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

اتوار کی صبح قید فوجی کی رہائی کے بدلے رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی گئی تھی۔

اسرائیل کی جیلوں میں تقریباً چھ ہزار فلسطینی قید ہیں۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پانچ سال کے بعد آخر کار اسرائیل کو اس کیس میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔