Thursday, May 17, 2012
ملادچ مقدمہ: سربرنتزا میں قتلِ عام پر جرح
بوسنیائی سرب فوجی کمانڈر راتکو ملادچ کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی سمیت انسانیت کے خلاف جرائم کے گیارہ الزامات کے تحت مقدمے کی کارروائی جمعرات کے روز دوبارہ شروع کی گئی ہے۔
آج ہونے والی سماعت میں سربرنتزا پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ملادچ پر سنہ انیس سو پچانوے میں سربرنتزا کے علاقے میں سات ہزار مسلمان لڑکوں اور مردوں کے قتلِ عام میں کلیدی کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔
اسی بارے میںعدالتی حکم پر ملادچ کمرۂ عدالت سے باہرملادچ کو عدالت میں پیش کر دیا گیاملادچ: فرد جرم کے جواب سے انکار
متعلقہ عنواناتدنیا, جنوبی ایشیاملادچ پر الزام ہے کہ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد بدترین جنگی جرائم کیے۔ان پر جنگی جرائم کے گیارہ الزامات ہیں۔ ان کے خلاف مقدے کی سماعت کا باقاعدہ آغاز بدھ کے روز کیا گیا تھا۔
بدھ کے روز جنرل ملادچ جب کمرہ عدالت میں پہنچے تو انہوں نے تالیاں بجائیں اور پر اعتماد انداز میں حاضرین کے سامنے انگوٹھا بلند کیا۔
ستر سالہ ملادچ پر عائد الزامات میں سے نصف کو ختم کر دیا گیا تاکہ ان کے خلاف مقدمے کی سماعت جلد سے جلد مکمل کی جا سکے۔
وہ نوے کی دہائی کی بلقان جنگ کے آخری بڑے مجرم ہیں جنہیں نیدرلینڈز کے شہر دا ہیگ میں جنگی جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کی عدالت میں مقدمے کا سامنا ہے۔
ستّر سالہ راتکو ملادچ پندرہ برس تک مفرور رہنے کے بعد گزشتہ برس مئی میں سرب فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے جس کے بعد انہیں دا ہیگ بھیج دیا گیا تھا۔
وہ اسی جیل میں مقدمہ چلائے جانے کا انتظار کر رہے ہیں جہاں ان کے سابق سیاسی رہنما رادوواں کاردچ کو رکھا گیا ہے۔ کاردچ کو 2008 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر بھی مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
عدالتی حکام ملادچ کے وکلاء کی جانب سے مقدمے میں تاخیر کی درخواستیں رد کرتے رہے ہیں۔حال ہی میں ملادچ نے مقدمے کی سماعت کرنے والے ولندیزی جج الفانس اوری کو تبدیل کرنے کی بھی درخواست کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں استغاثہ نے چار سو سے زائد گواہان کے بیانات لیے ہیں۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بوسنیائی مسلمانوں اور کروٹس کے خلاف نسل کشی کی مہم چلائی اور انیس سو بانوے سے شروع ہونے والی اس مہم کا نقطۃ عروج سنہ پچانوے میں مشرقی بوسنیا میں سربرنتزا کا واقعہ تھا۔
ملادچ پر بوسنیائی دارالحکومت سراجیوو کا چوالیس ماہ تک جاری رہنے والے محاصرہ کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس دوران سراجیوو میں دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق یہ یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد ڈھائے جانے والے سب سے خوفناک مظالم تھے۔